بنگلورو،12؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک میں تین ماہ سے زائد عرصہ تک چلی انتخابی مہم کے بعد آج جملہ 222 اسمبلی سیٹوں کے لئے انتخابات نہایت پرامن طریقہ پر اختتام پذیر ہوئے۔ ریاست میں صرف ایک منڈیا کے ایک پولنگ بوتھ پر معمولی جھڑپوں کی واردات پیش آئیں، مگر پولس نے جلد ہی حالات پر قابو پالیا۔ البتہ دیگر کسی بھی حلقوں سے کسی بھی طرح کی گڑبڑی کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔
صبح سات بجے سے شام چھ بجے تک ہوئے انتخابات میں قریب 70 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ الیکشن میں اہم مقابلہ برسراقتدار پارٹی کانگریس اوربی جے پی کے درمیان ہوگا۔ جے ڈی ایس بھی ان انتخابات میں اہم رول نبھاسکتی ہے۔خیال رہے کہ انتخابات کے نتائج کا اعلان 15 مئی کو کیا جائے گا۔
ریاست میں مجموعی طور پر 224 سیٹیں ہیں ، لیکن دو سیٹوں پر آج ووٹنگ نہیں ہوئی ہے۔ ایک سیٹ پر بی جے پی کے امیدوار اور رکن اسمبلی بی این وجے کمار کی موت کی وجہ سے انتخابات ملتوی کئے گئے تو دوسری طرف آر آر نگر سیٹ پر بڑی تعداد میں فرضی ووٹرشناختی کارڈ برآمد ہونے کے بعد ووٹنگ ملتوی کردی گئی ۔ آر آر نگر میں 28 مئی کو ووٹنگ ہوگی اور 31 مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔
شام 6 بجے تک 70 فیصد پولنگ:
کرناٹک میں شام چھ بجے تک 70 فیصد پولنگ ریکارڈ کئے جانے کی اطلاعات ہیں، البتہ دفتری ذرائع سے مکمل رپورٹ موصول ہونی ابھی باقی ہے۔
منڈیا میں جھڑپ:
ضلع منڈیا کے ہولے نرسہیپورہ علاقہ کے ایک پولنگ بوتھ میں مبینہ طور پر کانگریس اُمیدوار پر پتھرائو کی واردات پیش آنے کے بعد دوسیاسی حریف پارٹیوں کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی۔بعد میں یہاں حالات پر قابو پانے کے لئے حفاظتی انتظامات پر مامور اہلکاروں کو ہلکی لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا۔ بتایا گیا ہے کہ حفاظتی اہلکاروں نے جلد ہی حالات پر قابو پالیا۔ اس تعلق سے پولس معاملہ کی جانچ کررہی ہے۔
کرناٹک میں لوگ بڑھ چڑھ کر ووٹنگ میں حصہ لیتے ہوئے نظر آئے،تقریبا تمام بوتھوں پر صبح سے ہی لمبی لمبی لائن نظرآئیں ۔ منگلورو کے پانڈیشورا میں 103 سالہ ایک خاتون ووٹ ڈالنے کیلئے پہنچیں تو بھٹکل میں ایک 104 سالہ بزرگ شخص نے بھی اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ دیگر علاقوں سے بھی سو سے زائد عمر والے بزرگ لوگوں کی جانب سے پولنگ سینٹر پہنچ کر اپنا اپنا ووٹ اپنی پسند کے اُمیدوار کو دئے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔